10 جون 2026 - 12:35
مآخذ: ابنا
برطانیہ نے مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں سرمایہ کاری پر پابندی عائد کر دی

برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے برطانوی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ان بستیوں میں معاشی اور مالی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے برطانوی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے ان بستیوں میں معاشی اور مالی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔

برطانوی حکومت کے نئے فیصلے کے تحت اب برطانوی کمپنیاں اور شہری ان اسرائیلی بستیوں میں سرمایہ کاری، کاروبار یا دیگر مالی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے سکیں گے جنہیں بین الاقوامی سطح پر غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے۔

ایویٹ کوپر نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری خطرات سے متعلق حکومتی ہدایات کو مزید واضح کر دیا گیا ہے تاکہ کسی ابہام کی گنجائش نہ رہے۔ ان کے مطابق برطانوی شہریوں اور کمپنیوں کو غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں کسی قسم کی معاشی یا مالی سرگرمی نہیں کرنی چاہیے۔

برطانیہ نے حال ہی میں کینیڈا، فرانس اور ناروے کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں بعض اسرائیلی آبادکاروں اور تنظیموں کے خلاف نئی پابندیوں کا بھی اعلان کیا ہے۔

برطانوی حکومت کے مطابق یہ اقدامات مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع اور آبادکاروں کے تشدد میں اضافے کے ردعمل کے طور پر کیے گئے ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد ان مالی وسائل کو محدود کرنا ہے جو انتہا پسند آبادکار گروہوں کی سرگرمیوں کو تقویت دیتے ہیں۔

وزیر خارجہ ایویٹ کوپر نے کہا کہ بستیوں کی توسیع اور تشدد بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں اور یہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان دو ریاستی حل، امن اور طویل المدتی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہیں۔

برطانوی حکومت نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل بستیوں کی توسیع روکے، آبادکاروں کے تشدد پر قابو پائے، ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے اور فلسطینی معیشت پر عائد پابندیوں میں نرمی لائے۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو مزید اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha